وزیر خارجہ نے پی اے سی چیئرمین کی تعیناتی مسترد کردی

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رانا تنویر کی بطور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین تعیناتی کو مسترد کردیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو تبدیل کرنے کے لیے اپوزیشن سے مشاورت نہیں کی گئی، میثاق جمہوریت کا تقاضا تھا کہ قائد حزب اختلاب کو عہدہ دیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی نے فہم و فراست سے پی اے سی کا مسئلہ حل کیا حالانکہ اس مسئلے پر فواد چوہدری اور شیخ رشید کے طعنے بھی سننا پڑے تاہم سب کے کردار کی وجہ سے یہ مسئلہ حل ہوا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف نے از خود پی اے سی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور رانا تنویر کو نامزد کردیا جب کہ اپوزیشن سے بھی مشاورت نہیں کی، بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہی الفاظ استعمال کیے، شہباز شریف نے پی اے سی اس طرح منتقل کردی جیسے وراثتی انتقال کیا جاتا ہے، کس تقاضے اور کس اصول سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا تقاضا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی چیئرمین شپ دی جائے تاہم شہباز شریف نے خود میثاق جمہوریت کو روند دیا، آپ سب کو اعتماد میں لیں اور بتائیں اس کی وجوہات کیا ہے، ہم سے بھی مشورہ کرلیتے تاہم اس طرح کا اتنی اہم کمیٹی کا فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے۔