آرٹیکل 63 اے صدارتی ریفرنس، منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق سوال واپس بھیج دیا اور تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا ‘ انحراف پارلیمانی نظام جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے‘ انحراف پر نا اہلی سے متعلق قانون سازی کا یہی وقت ہے‘ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے ، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے ، انحراف پارلیمانی نظام جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے ، آرٹیکل 63 اے کا مقصد انحراف سے روکنا ہے ، آرٹیکل 63 اے کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا ۔تفصیلات کے مطابق 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی ، 5 رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہیں ، بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل ہیں ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی بینچ کا حصہ ہیں ، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی طرف سے ریفرنس پر 20 سماعتیں کی گئیں اس دوران سیاسی جماعتوں کے وکلاء نے اپنے دلائل دیے اور 58 روز میں ریفرنس پر سماعت مکمل کی گئی ، جس کے بعد سپریم کورٹ نے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ اب سنا دیا گیا ہے ۔

آج ہونے والی سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے وکیل نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت طلب کی ، اس حوالے سے ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرائیں ، جن میں کہا گیا کہ حالات تبدیل ہوگئے ہیں ، حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے ۔ جب کہ حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے ، انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل 63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے، صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا ، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں ، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں ، کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نےکہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھے ، مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے، اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے ، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھا ، میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا ، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جا سکتی ہے۔

اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا ، ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا ۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے؟ جب کہ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے ، بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں۔جس پر اشتر اوصاف نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے، سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں ، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا ، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے ، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے ، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے ، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں ، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں اور دوسرا فریق سیاسی جماعت ہوتی ہے ، مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا ، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں ، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ہے ، ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں اور صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں ۔

متعلقہ خبریں