عدلیہ فوج کے خلاف مہم: نواز شریف عالمی سازش کا حصہ ہیں: ممتاز ماہرین

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) معروف تجزیہ کار شخصیات کے طرف سے انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف فوج و عدلیہ مخالف جو مہم چلا رہے ہیں اس کے تانبے بانے عالمی سازش سے ملتے ہیں۔ خیال رہے ہیں کہ نواز شریف کی جانب سے روبیٹری گلوبل کو ہائر کرنا بھی اسی عالمی سازش کا حصہ ہے تاکہ پاک فوج اور ملکی اداروں کو پوری دنیا میں بدنام کیا جائے۔ اس طرح کی ایک کوشش ڈان لیک سیکنڈل میں کی گئی تھی۔انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے عالمی دنیامیں اپناامیج بڑھانے اورملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بے بنیادپراپیگنڈہ کرنے کیلئے امریکہ کی مہنگی ترین لابنگ فرم ”وین سنٹ روبیرٹی آف روبیرٹی گلوبل“” Vincent Roberti of Roberti Global.“کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کی طرف سے میڈیا کی اہم شخصیات کو بڑے پیمانے پر پیسے بانٹے گئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب نا اہل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اس وقت جنگی راستے پر گامزن ہیں۔ جہاں لڑائی ، محاذ آرائی ، مار کٹائی اور تباہی ہو گی۔معروف صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ کہ مریم نواز خاموشی سے اپنے عزیز و اقارب اور اپنے بچوں کے عزیزو اقارب کے ذریعے کاروباری لوگوں اور سرمایہ داروں سے رابطہ کر رہی ہیں۔ان میں سے کسی کے پاس کوئی بینک ہے، کسی کے پاس ہاو¿سنگ سکیم ہے ،اور کسی کے پاس اربوں روپے کے ٹھیکے ہں، مریم نواز کے حکم پر ان تمام لوگوں سے اپنے عزیزوں کے ذریعے انہوں نے پیغام بھجوایا ہے کہ ہمیں ایک ارب روپے پہنچا دیں، ہم نے تحریک چلانی ہے، عدلہں اور فوج کے خلاف محاذ آرائی کرنی ہے اور اپنے سانسی مخالفنا کو نچاے دکھانا ہے۔ذرائع کے مطابق مریم نواز اس کے علاوہ 20 لوگوں کی فہرست بھی بنائی ہے اور کہہ دیا ہے کہ ہمیں بسا ارب روپے چاہئیں۔کسی سے ایک ارب ، کسی سے دو ارب ، کسی سے پچاس کروڑ روپے دینے کا کہا گیا ہے۔ معروف تجزیہ کارچوہدی غلام حسنی نے پروگرام کے دوران کہا کہ میں چلنج دے رہا ہوں کہ نواز شریف ، مریم نواز یا ان کے وزیر مشرو ان تمام باتوں کی تردید کریں جس کے بعد ہم پھر ثبوت لائیں گے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ تحریک انصاف یا پپلز پارٹی کے برعکس حکمران جماعت ن لگا تاحال باقاعدہ طور پر اپنی انتخابی مہم کا آغاز نہںے کرسکی ہے۔ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کے عدلیہ مخالف سوشل میڈیا پر میسیجز کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیے جبکہ نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے، سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد نواز شریف مسلسل عدلیہ سمیت اہم ملکی اداروں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور توہین آمیز تقاریر کر رہے ہیں۔ وکیل نے نشاندہی کی کہ حال میں ہی نواز شریف نے ایبٹ آباد میں عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز تقریر کی‘ ان کا یہ خطاب عدلیہ پر حملے اور توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی کہ سابق وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ دنیا بھر میں توہین عدالت کا قانون ختم ہو رہاہے۔ آپ نے اس معاملے پر سپریم کورٹ کیوں نہیں رجوع کیا‘ جس پر وکیل نے بیان دیا کہ لاہور ہائی کورٹ بھی اس معاملے کی سماعت کا مکمل دائرہ اختیار رکھتی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے بھی عدلیہ مخالف ٹویٹس کیے اور عوام میں ملکی اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ عدالت نے مریم نواز کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیے جبکہ نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا۔