‘چیئرمین نیب کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ہٹا سکتے ہیں لیکن عمران خان ایسا نہیں چاہتے’

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ہٹا سکتے ہیں لیکن عمران خان ایسا نہیں چاہتے۔

 وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) پر کوئی ایسا الزام نہیں لگایا گیا ہےکہ وہ ایماندار نہیں، چیئرمین نیب ایماندار آدمی ہیں اور ایسے ہی آدمی کی نیب میں ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیب پر نہ کوئی دباؤ ڈالا ہے نہ ڈالے گی، نیب آزادانہ طور پر کام کررہا ہے اور ان کو آزادانہ طور پر کام کرنے دینا چاہیے، چیئرمین نیب کے انٹرویو سے متعلق بھی کوئی ایسی بات نہیں جو متنازع ہو، وہ خود انٹرویو سے متعلق کچھ باتوں کی تردید کرچکے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق بات سامنے آرہی ہے کہ خاتون کی ویڈیو جعلی ہے،  کیوں کہ یہ میاں بیوی اپنے خلاف انکوائری کو متنازع بنانا چاہ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے جس طرح وہ غیرجانبداری سے کررہے ہیں، چیئرمین نیب کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے ہٹاسکتے ہیں لیکن عمران خان ایسا کچھ نہیں چاہتے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اگر اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک شخص پر دباؤ ڈال رہی ہے اور وہ دباؤ قبول نہیں کررہا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص بہتر ہے، غیر جانبدار اور ایماندار آدمی کو موقع دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو متنازع انٹرویو کے باعث اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا کہ ان کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب کی ایک مبینہ آڈیو ویڈیو چلائی تھی جس میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے آفس میں موجود ہیں جہاں ان کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود ہے۔

نیب نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حوالے سے نجی چینل پر چلنے والے آڈیو ویڈیو کلپ کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے اسے چیئرمین نیب کے خلاف سارش قرار دیا ہے۔