سعودی فرمانروا نے قطری امیر کو خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مدعو کرلیا

دوحا: سعودی عرب اور قطر کے درمیان تقریباً 2 سال سے جاری سرد تعلقات میں نرمی آنے لگی جس کی مثال سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قطری امیر کو مدعو کرنا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد التھانی کو 30 مئی کو ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کا تحریری پیغام موصول ہوا ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق سعودی فرمانروا کا پیغام نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبداللہ رحمان التھانی کو اُس وقت موصول ہوا جب وہ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف بن راشد الزیانی کے ساتھ دوحا میں اجلاس میں مصروف تھے۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے قطر سے تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد سرکاری طور پر سعودی عرب کا قطر سے یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔

یاد رہے کہ جون 2017 میں سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے زمینی، سمندری اور فضائی پابندی لگاتے ہوئے تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

دوسری جانب قطر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔

دوسری جانب سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خادم الحرمین الشریفین نے خطے میں حالیہ جارحیت اور اس کے نتائج پر غور کے لیے مکہ میں دو اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سعودی آئل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر 2 سعودی مال بردار بحری جہازوں کو سبوتاژ کیے جانے کے واقعے کے بعد سعودی فرمانروا کی جانب سے اہم کانفرنس بلانے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ دو آئل پمپنگ اسٹیشنز پر ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے، جس کا دعویٰ یمن کے حوثی باغیوں نے کیا تھا۔