پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کی بھارتی کوشش ناکام بنادی

نیویارک: پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے 3 اہم ممالک کا تعاون حاصل کر لیا۔

کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان نے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کرلی جس کے بعد پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے امکانات معدوم ہوگئے۔

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے سے متعلق حتمی اعلان اکتوبر میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 36 ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے تین ممالک کی حمایت لازم ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے ؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 36 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان 2012 سے 2015 تک ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔