پیدائشی ڈیفیکٹڈ کا بیان کسی خاص شخص کے لیے نہیں تھا: فردوس عاشق

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہےکہ ان کا پیدائشی ڈیفیکٹڈ کا بیان کسی خاص شخص کے لیے نہیں تھا اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہو وہ ڈیفیکٹڈ ہے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ’عمران خان کا مینڈیٹ ہے، انہیں پارلیمنٹ نے پہلے سلیکٹ کیا پھر اپنے ووٹ سے الیکٹ کیا لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جسے تاحیات سپریم کورٹ نے ری جیکٹ کیا، سلیکٹد، الیکٹڈ اور ایک تاحیات ری جیکٹڈ کی بات ہونی چاہیے، اس کے ساتھ ایک سیاسی لیڈر ایسا بھی ہے جو پیدائشی ڈیفیکٹد ہے‘۔

اس حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’پیدائشی ڈیفیکٹڈ طبی اصلاح ہے، اسے سیاست کارنگ کیوں دیا جارہا ہے، اپنے الفاظ پر قائم ہوں پیچھے نہیں ہٹ رہی، بیان کسی خاص شخص کے لیے نہیں تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہر وہ شخص جس کے اپنے عمل اس کی زبان کے ساتھ نہ ہوں وہ پیدائشی ڈیفیکٹڈ ہے، کوئی بھی سیاسی شخص ہو سکتا ہے جس میں پیدائشی نقائص ہو، پیدائشی نقائص جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور کسی میٕں بھی ہو سکتے ہیں‘۔

دوسری جانب اپنے ایک بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا ہےکہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بارٹیکس وصولی کو تحریک کی شکل دی، پاکستان کو خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرنے کی جانب عملی قدم کپتان نے اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ہم قوم بن کر محتاجی کی دلدل سے نکلنے کی جدوجہد کریں، وزیراعظم نے سیاسی نہیں قومی مفاد میں جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں، اس کڑی دھوپ سے ایک بار ہم ہمت، حوصلے اور استقامت سے گزر گئے تو مستقبل روشن ہوگا۔