سلیکٹڈ وزیراعظم کی چڑِ بن گئی ہے جو قیامت تک ان کے ساتھ جائیگی: شہبازشریف

اسلام آباد:قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہےکہ وزیراعظم نیازی نے اتنا بڑا بلنڈر کیا کہ سلیکٹڈ ان کی چڑ بن گئی اور یہ چڑ قیامت تک ان کے ساتھ جائے گی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے صحافیوں سے ملاقات کی، اس موقع پر شاہد خاقان عباسی، رانا ثناءاللہ، خرم دستگیر، خواجہ آصف، میاں جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں ایوان مچھلی منڈی بنارہا اور پہلے 4 دن ضائع کیے گئے، حکومتی ارکان جلتی پر تیل ڈالتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عدم برداشت جنم لے رہی ہے، ماضی میں بھی اختلافات رہے لیکن یہ ماحول کبھی نہیں تھا۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ہمارا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا، اپوزیشن نے حقائق کے ساتھ بجٹ کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے، تاریخ میں ایسا ظالمانہ دشمن بجٹ کبھی سامنے نہیں آیا، ہمارے دور میں مفت معیاری دوائیاں فراہم کی جارہی تھیں اور آج غریب آدمی علاج کے بغیر مر رہا ہے، عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی آواز بنیں گے۔

شہبازشریف نے مزید کہا کہ وزیراعظم نیازی نے اتنا بڑا بلنڈر کیا کہ سلیکٹڈ ان کی چڑ بن گئی اور یہ چڑ قیامت تک ان کے ساتھ جائے گی، میں نے سائیڈ لائن پی ایم کہہ دیا تھا، وزیراعظم اور ٹیم ناکام ہو چکی ہے، ان کی ٹیم واپس بھیجی جا چکی، اب سلیکٹڈ لوگ آگئے ہیں، معاشی ٹیم وہی چلا رہے ہیں، عمران خان اور ان کی ٹیم کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی استعفوں سے متعلق تجویز پہلے ایک اے پی سی میں مسترد کردی گئی تھی، رہبر کمیٹی چیئرمین سینیٹ کا نام تجویز کرے گی، اتفاق رائے نہ ہونے پر سب قیاس آرائیاں ہیں، ابھی تو مرحلہ بھی شروع نہیں ہوا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمارا لیڈر ایک ہے جس کا نام نواز شریف ہے اور ان سے جو ظلم ہورہا ہے وہ پرویزمشرف کی آمریت میں بھی نہیں ہوا ، فسطائیت کی بدترین مثال ہے، عمران نیازی کے کہنے پر نوازشریف سے اہلخانہ کی ملاقاتیں بھی نہیں ہونے دی جارہی ہیں، والدہ اور بہن کو بھی نہیں ملنے دیا گیا۔

شہبازشریف کاکہنا تھا کہ کسی ایک نکتے پر رائے دینا جمہوریت کا حسن ہے، یہ جمہوریت ہے یہ فاشزم نہیں ہے، اتفاق رائے سے جو فیصلہ ہو اسے سب تسلیم کرتے ہیں، آپ پیپلز پارٹی سے ہمیں لڑانے کی کوشش بھی کریں گے تو ہم نہیں لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایوں سے عزت اور برابری کی بنیادوں پر تعلقات قائم ہونے چاہئیں، یہ نہیں کہ مودی کی منتیں کریں اور وہ بات بھی نہ سنے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر میں کچھ نہیں کہوں گا، عوام مشاہدہ کریں، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک کا سوال ابھی قبل از وقت ہے، تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے، عمران خان 71 سالہ تاریخ کا جھوٹا ترین اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہے, میں نے ایوان میں کہا کہ این آر او کا بتائیں کس نے رابطہ کیا، ماضی میں ہم نے غلطیاں کی ہیں ،آج نتیجہ بھگت رہے ہیں، اگر ایکا کرلیں کہ جمہوریت پر قدغن نہیں لگنے دینا تو انشاءاللہ وقت بدل جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم میچور اپوزیشن کریں گے، فیصلہ کیا تھا کل لاڈلے کو بے نقاب ہو نے دیں گے، آج ملک کاجو حال ہوا وہ بے نقاب ہو چکا، یوتھ اور فاؤنڈرز کو بھی پتہ چل گیا ہے، معشیت کو جو بیماری لگ گئی ہے اس کا علاج نئے انتخابات ہیں، مڈ ٹرم الیکشن جمہوریت میں ہوتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔