اے این ایف نے رانا ثناء اللہ کو حراست میں لے لیا

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر فیصل آباد سے لاہور جا رہے تھے کہ ایے این ایف نے سکھیکی کے قریب سے انہیں حراست میں لے لیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو منشیات فروش لوگوں سے روابط کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے اس حوالے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اے این ایف لاہور نے مسلم لیگ ن کے رہنما کو گرفتار کرنے کی تصدیق کر دی ہے تاہم تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ترجمان اے این ایف کا بتانا ہے کہ رانا ثناءاللہ کے ہمراہ ان کے سیکیورٹی گارڈ بھی تھے، کچھ دیر بعد تحریری طور پر ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں گی۔

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری میں براہ راست وزیراعظم ملوث ہیں: مریم نواز

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب محمد ذبیر کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کا موبائل فون بند جا رہا ہے اور ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی گرفتاری میں براہ راست وزیراعظم ملوث ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اس سے زیادہ بے ہودہ صورتحال نہیں ہو سکتی، اے این ایف کا رانا ثناء اللہ سے کیا لینا دینا؟

رہنما ن لیگ نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کو جرات مندانہ مؤقف کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جعلی اعظم چھوٹا ذہن رکھنے والی شخصیت ہے۔

رانا ثنا تین چار ہفتے سے کہہ رہے تھے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا: حامد میر

جیو نیوز کے اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ تین چار ہفتے سے مجھے اسلام آباد میں ملتے تھے تو بتاتے تھے شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہو کیونکہ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔

حامد میر نے کہا جب پوچھا جاتا کہ کیوں گرفتار کریں گے تو رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وہ ابھی مجھے گرفتار کرنے کی وجوہات ڈھونڈھ رہے ہیں۔

رانا ثنااللہ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر ہیں اور ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ وہ عام انتخابات میں ن لیگ کے ٹکٹ پر این اے 106 فیصل آباد سے ایم این اے منتخب ہوئے۔