حکومت نے 309 ارب روپے کا زرعی ایمرجنسی پروگرام پیش کر دیا

اسلام آباد: رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ زرعی ایمرجنسی پروگرام کیلئے 309 ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں، گزشتہ 10 سال میں زراعت کے شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی، سندھ حکومت ابھی تک ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوئی، وفاق زرعی شعبے کیلئے سندھ کو 15 سے 18 ارب دینے کیلئے تیار ہے۔ کسانوں کیلئے لائیو سٹاک پروگرام کا آغاز کر دیا، چاروں صوبوں میں فش فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں دیگر پی ٹی آئی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ کسانوں کیلئے لائیو سٹاک پروگرام کا آغاز کیا ہے جو چھوٹے اور غریب کسانوں کیلئے ہے، اس منصوبے پر کام 4 سال میں مکمل ہو گا۔ زرعی شعبے نہ صرف بہتری آئے گی بلکہ کاشتکار بھی خوشحال ہو گا۔ مذکورہ منصوبے میں حکومت چھوٹے کاشتکاروں پر فوکس کرے گی، زراعت کی ترقی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ زرعی ایمرجنسی پروگرام کیلئے 309 ارب رکھے گئے ہیں، لائیو سٹاک کیلئے 3 خاص پروگرام ہیں، کیج فارمنگ کو فروغ دیں گے اور ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کیلئے قرض بھی فراہم کریں گے، زراعت کے شعبہ کی پیداوار بڑھانے کا پلان ہے، اس کی ترقی کیلئے مختلف ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں۔ چاروں صوبوں میں فش فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ زراعت پاکستان کی لائف لائن ہے، سابق حکمرانوں کی نااہلی نے زراعت کو اس نہج پر پہنچایا، گزشتہ 10 سال میں زراعت کے شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی، سندھ حکومت ملک کی خاطر ہم سے تعاون کرے، وفاقی حکومت 15 سے 18 ارب سندھ کو دینے کیلئے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں