اپوزیشن رہبر کمیٹی کا اجلاس، ملک بھر میں مشترکہ جلسوں کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ رہبر کمیٹی نے حکومت کے خلاف ملک بھر میں مشترکہ جلسوں کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کے حوالے سے اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کے 11 اراکین پر مشتمل رہبر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ رہبر کمیٹی کے تمام ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے ملک بھر میں مشترکہ جلسے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 جولائی کو عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا جائے گا اور اس کے بعد تمام صوبوں کے مرکزی شہروں میں مشترکہ جلسے ہونگے۔ رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف فوری قرارداد لانے پر اتفاق کیا تاہم نئے چیئرمین سینیٹ کے نام پر غور کو عارضی طور پر موخر کردیا گیا۔

اجلاس میں (ن) لیگ سے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پیپلز پارٹی سے فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، جعمیت علماء اسلام (ف) سے اکرم خان درانی، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو، اے این پی سے میاں افتخار، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر، جمعیت علماء پاکستان سے اویس نورانی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسروری نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے اور حکومت مخالف تحریک سمیت دیگر ایشوز پر بات چیت کی گئی تاہم اہم کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کیا جاسکا۔ ن لیگ نے مستقل کنوینئر کی بجائے تمام جماعتوں کو باری باری کنوئینر شپ دینے کی تجویز دی تاہم اتفاق نہیں ہوسکا۔