وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ نے استقبال کیا

واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم ملاقات شروع ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے۔

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر امریکا میں موجود ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا جب کہ اس سے قبل وزیراعظم کی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

وزیراعظم عمران خان آج ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس جائیں گے جہاں امریکی صدر ان کا استقبال کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے عمران خان کے دورہ وائٹ ہاؤس کو تعلقات بہتر بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ عمران خان کا دورہ پائیدار شراکت داری اور تعاون کو مستحکم بنانے کا موقع ہے، امریکا پاکستان کو یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہے کہ تعلقات کی بہتری کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی ملاقات میں خواتین کے حقوق، میڈیا کی آزادی، انرجی، ایگری کلچر اور تجارت پر بات ہوگی جب کہ ملاقات میں انسداد دہشتگردی پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ افغان امن عمل میں پاکستان کی مدد کو سراہتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں۔

وزیراعظم سے امریکی سینیٹر کی ملاقات

سینیٹر لنزے گراہم ری پبلکن پارٹی اور امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن ہیں — فوٹو: جیو نیوز

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پاکستان ہاؤس میں ملاقات کی۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر لنزے گراہم نے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور وزیراعظم عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کی بہتری کیلئے سینیٹر لنزے گراہم کی کوششوں کو سراہا۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر کو ترقی اور معاشی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا سے وسیع بنیادوں پر تعلقات چاہتا ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں بھرپور تعاون چاہتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کی پاکستان نے بھاری قیمت اداکی اور پاکستان امریکا کے تعاون سے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔

سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ پاک امریکا اعلی سطح پر رابطے دونوں ملکوں کے فائدے میں ہیں، افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کے باعث صورتحال بہتر ہوسکی۔

سینیٹر لنزے گراہم ری پبلکن پارٹی اور امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن ہیں اور خطے میں امن و سلامتی کیلئے پاک امریکا تعلقات کے سرگرم حامی ہیں۔

’آرمی چیف، وزیراعظم کے وفد کے رکن کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے‘

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم عمران خان کے وفد کے رکن کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد پینٹاگون کا دورہ کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ پینٹاگون میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع رچرڈ اسپینسر سے ملیں گے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سے بھی ملاقات کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ امریکی چیف آف اسٹاف جنرل مارک اے ملے سے بھی ملیں گے۔

DG ISPR

@OfficialDGISPR

COAS at Washington, DC. On 22 July 19, after the meeting at White House as part of Prime Minister’s delegation, COAS will visit Pentagon to interact with Acting Secretary Defence Mr. Richard Spencer, CJCS Gen Joseph Dunford and Chief of Staff of US Army Gen Mark A Milley.

4,309 people are talking about this