عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر اپوزیشن کا یوم سیاہ

کراچی: مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منارہی ہیں۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف اپوزیشن ملک گیر یوم سیاہ منارہی ہے۔ اس سلسلے میں چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ میرپور ماتھیلو، نواب شاہ، حیدرآباد اور کندھ کوٹ میں جمعیت علماء اسلام نے احتجاجی ریلیاں نکالی جس میں سیکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔

ملتان میں کچہری چوک پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ٹائر جلاکر احتجاج کیا اور گوعمران گو کے نعرے لگائے۔ رحیم یارخان میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سامنے اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ڈیرہ غازیخان میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹریفک چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔

یوم سیاہ پر کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں اپوزیشن کے بڑے مشترکہ جلسے ہوں گے جن میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

ان مظاہروں سے شہباز شریف ، راجہ ظفر الحق ، بلاول بھٹو زرداری، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضاگیلانی ، مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے ، بڑے شہروں میں سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے۔

لاہور

ن لیگ کی میزبانی میں مال روڈ پر اپوزیشن اتحاد کا جلسہ ہوگا۔ پولیس نے چیئرنگ کراس کے اطراف میں رکاوٹیں لگادی ہیں۔ ن لیگ کے رانا مشہور، میاں مجتبی، شجاع الرحمن، سید توصیف حیدر اور دیگر رہنما مال روڈ پر موجود ہیں۔

کوئٹہ

کوئٹہ میں بھی اپوزیشن کا مظاہرہ ہوگا جس میں مریم نواز شرکت کریں گی۔ جلسے سے مولانا عبدالواسع ، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار  اور ڈاکٹر مالک علی مدد جتک سمیت دیگر سیاسی رہنما خطاب کریں گے۔

کوئٹہ جلسے میں آنے والے کارکنوں کو روک دیا گیا

اپوزیشن نے کوئٹہ جلسے میں آنے والے کارکنوں کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کوئٹہ میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پشتونخواہ میپ کے رہنما رحیم زیارتوال نے کہا کہ کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کو مسلح افراد کے ذریعے بند کردیا گیا ہے، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور جلسے میں آنے والے تمام کارکنوں کو روک لیا ہے، اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں، حکومت فوری طور پر تمام بند کیے گیے راستے کھولے اور کسی بھی نہ خوشگوار واقعہ کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

کراچی

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں تمام اپوزیشن جماعتوں کا کراچی میں مزارِ قائد سے متصل باغ جناح میں جلسہ ہوگا جس سے بلاول بھٹو زرداری، ن لیگ کے ایاز صادق اور دیگر رہنما خطاب کرینگے۔

پشاور

جے یو آئی کی میزبانی میں اپوزیشن کا جلسہ ہوگا جس سے اسفند یار ولی، آفتاب احمد شیرپاؤ، مولانا فضل الرحمن، میرحاصل بزنجو اور دیگر قائدین خطاب کرینگے۔

آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان نے اسلام آباد کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اپوزیشن کے یوم سیاہ کے تناظر میں فیصل آباد میں پولیس نے لیگی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 2 سو سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔  احمد پور سیال جھنگ میں پولیس نے چھاپے مارتے ہوئے مسلم لیگ ن کے تحصیل جنرل سیکرٹری افتخار خان کو گرفتار کرلیا۔

متعلقہ خبریں