مقبوضہ کشمیر: بھارت کا مزید 10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی:  بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے بعد مزید دس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں پیرا ملٹری فورسز کے دس ہزار اضافی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی میں اضافی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یاد رہےکہ کچھ روز قبل قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووَل نے وادی کا دورہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے حکام کے ساتھ مل کر سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق داخلہ امور کی وزارت نے جموں و کشمیر میں قانون کی بالادستی اور سکیورٹی کی بہتر صورتحال کے لیے دس ہزار اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ملک کے مختلف شہروں سے طیاروں کے ذریعے پہنچانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ تازہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آ رہی ہے جب القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے زور دیا ہے کہ مجاہدین اس ریجن میں حملوں میں تیزی لائیں۔

بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں مصدقہ اعداد و شمار کبھی بھی جاری نہیں کیے تاہم غیر سرکاری اور محتاط اندازے کے مطابق اس متنازعے علاقے میں تین تا پانچ لاکھ بھارتی سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔

دوسری طرف وادی کشمیر میں بھارتی فورسز نے یکم جنوری تا چودہ جولائی تک کی جانے والی کارروائیوں میں 126 مجاہدین کو شہید کیا ہے رواں برس کے دوران 75 بھارتی سکیورٹی اہلکار مجاہدین کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔

بھارتی حکام کی طرف سے کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں چالیس سکیورٹی اہلکار پلوامہ میں ایک حملے کے دوران مارے گئے تھے۔