کسٹمز کی کارروائی، پرانے آٹو پارٹس کی آڑ میں پرفیوم اور گاڑیوں کی اسمگلنگ کا کام

کراچی:  پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کلکٹوریٹ نے استعمال شدہ آٹوپارٹس کی آڑمیں مہنگے پرفیوم، گاڑیوں کی انجن اورسوزوکی پک اپ کے یونٹ سمیت دیگراشیا اسمگل کرنے کی کوشش کی ناکام بناتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیاہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کوبتایاکہ کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کے کلکٹر واجدعلی کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ متحدہ عرب امارات سے درآمدکیے جانے والے ٹرانس شپمنٹ کے کنسائنمنٹ میں بڑے پیمانے پر مس ڈکلیئریشن کرکے اسمگلنگ کی کوشش کی جارہی ہے جس پرانھوں نے ایڈیشنل کلکٹرسعیدوٹوکے سربراہی میں ڈپٹی کلکٹر عاصم اعوان اورپرنسپل اپریزرشفیع اللہ پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔

اس ٹیم نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سے اسلام آباد ڈرائی پورٹ جانے والے مذکورہ ٹی پی کنسائمنٹ کی ایگزامنیشن کی تو کنٹینر سے استعمال شدہ آٹو پارٹس کے بجائے 2350کلوگرام پرفیوم، سوزوکی پک اپ کے 1990 تا 1998 ماڈل کے 12یونٹ کے علاوہ استعمال شدہ آٹو پارٹس کے صرف76 پیس برآمد ہوئے، مزید براں کنسائنمنٹ سے پٹرول اورڈیزل انجن بھی برآمد ہوئے۔

ذرائع نے بتایاکہ کسٹمز حکام مس ڈکلیئریشن کی حامل ان اشیا کو ضبط کرلیا جن کی مالیت 94لاکھ57ہزار128روپے بتائی جاتی ہے جس پر متعلقہ درآمدکنندہ کی جانب سے ایک کروڑ13لاکھ94ہزارروپے مالیت کی ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

کسٹمز حکام نے بتایاکہ میسرزعثمان ٹریڈنگ کمپنی کی جانب سے متحدہ عرب امارات سے درآمدکیے جانے والے اس کنسائنمنٹ کو بانڈڈکیریئر میسرززیڈ ایس لاجسٹک کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا جانا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان کسٹمزاپریزمنٹ ایسٹ کلکٹوریٹ نے اسٹیل شیٹ کی آڑمیں مس ڈیکلیئریشن کے ذریعے ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کی کوشش ناکام بناتے ہوئے درآمدکنندگان کے خلاف کنٹراونشن رپورٹ مرتب کرلی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ 2 درآمدکنندگان کی جانب سے امریکا اورکینیڈاسے الیکٹرولائٹ ٹن پلیٹس درآمدکی گئیں جبکہ کسٹمز میں داخل کی جانے والی گڈزڈیکلیئریشن میں کولڈرول اسٹیل شیٹ ظاہرکرکے قومی خزانے کو60لاکھ روپے نقصان پہہنچانے کی کوشش کی گئی۔

متعلقہ خبریں