ٹرک ایکسل لوڈ 50 فیصد کرنا ملکی معیشت پر اضافی بوجھ

کراچی: حکومت کی طرف سے ٹرک کی ایکسل لوڈکی حد50 فیصد کرنے کی شرط سے ملکی معیشت پر اضافی بوجھ پڑے گا اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے اندازاً 2 لاکھ ٹرک مزید درکار ہوں گے۔

اس وقت ملک میں 3,30,000 ٹرک ہیں جن میں310,000 ٹرک اور 20,000 آئل ٹینکرز ہیں۔ مقامی پیداوار 9 ہزار سے 10 ہزارٹرک سالانہ ہے اور اس شرح سے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو ٹرکوں کی طلب پورا کرنے کے لیے 20 تا 25 سال درکار ہوں گے۔ اگر یہ ٹرک درآمد کیے جائیں تو 2 سے 3 سال کا وقت درکار ہوگا اور 12.5 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس طرح ملکی معیشت میں وسیع پیمانے پر سست روی آئے گی جس سے ہر معاشرتی شعبے کو نقصان پہنچے گا۔ ایکسل لوڈ کی شرط سے ملکی معیشت کو ایک کھرب روپے کی قومی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

مزید برآں4 ارب ڈالرسے 5 ارب ڈالر آئل ٹینکروں کی درآمد پر خرچ ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے علاوہ آئل انڈسٹری کو بھی ایکسل لوڈکی حد سے مسائل کا سامنا ہوگا۔ ذرائع کا کہناہے کہ تقریباً 20 ہزار آئل ٹینکرز آئل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہصرف 10 ہزار ٹینکر ایکسل لوڈ کی شرط کو پورا کرتے ہیں۔ مزید 5 ہزار ٹینکرزکی ضرورت ہوگی جس سے ایندھن کی20 فیصد سے 25 فیصد قلت ہوسکتی ہے۔ اسٹیل انڈسٹری کی خام مال درآمدات100فیصد ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن لاگت میںاضافہ ہونے سے اسٹیل کی قیمت بڑھ جائے گی۔ ایکسل لوڈ کی شرط سے سیمنٹ انڈسٹری بھی دباؤ کا شکار ہے۔

سیمنٹ انڈسٹری کی اوسط سالانہ کھپت42 ملین ٹن ہے اور حکومتی خزانے میں حصہ158ارب روپے ہے(ایف ای ڈی اور سیلز ٹیکس)۔ اس شرط سے سیمنٹ انڈسٹری کی فروخت50 فیصد کم اور قیمت بڑھ جائے گی۔ یوں تعمیراتی صنعت اور تعمیراتی منصوبے جیسے ڈیموں کی تعمیر، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جمود کا شکار ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کو سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی کی مد میں 70 ارب روپے کمی واقع ہوجائے گی۔ ماہرین کے مطابق ٹرکوں کی قلت سے45 صنعتوں سے منسلک لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کا روزگار ختم ہوجائے گا۔ قیمتوں میں اضافہ ہوگا، عوام کی قوت خرید متاثر ہوگی اور بالواسطہ ٹیکس میں بھی کمی ہوگی۔