کراچی میں دوسرے روز بھی بارش، سڑکوں پر پانی برقرار، کرنٹ سے ہلاکتیں 21 ہوگئیں

کراچی: شہر قائد میں دوسرے روز بھی بارش ہوئی جس کے باعث سڑکوں پر پانی جمع رہا جب کہ کرنٹ لگنے سے منگل کو بھی 9 افراد جاں بحق ہوگئے، دو روز میں ہلاکتیں 21 ہوگئیں۔

خلیج بنگال میں ہوا کے انتہائی کم دباؤ کی شکل میں بننے والے مون سون کے پہلے سلسلے کے سبب منگل کو دوسرے روز بھی کہیں درمیانی اور کہیں تیز بارشیں ریکارڈ ہوئیں جبکہ شہر کے چند علاقوں میں گذشتہ روز کی طرح مسلسل ایک سے دوگھنٹے موسلا دھار بارشیں بھی ریکارڈ ہوئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کی صبح 5 بجے سے منگل کی شام 5 بجے تک مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ سرجانی ٹاؤن میں 164.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، (ساڑھے چھ انچ کے لگ بھگ )۔

دوسرے نمبر پر صدر کے علاقے میں (5 انچ کے لگ بھگ)149 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ سب کم بارشیں کیماڑی میں 31.3 ملی میٹر(ڈیڑھ انچ کے لگ بھگ) ریکارڈ ہوئیں۔

شہر کے دیگر علاقوں نارتھ کراچی میں 88، گلشن حدید 78، بیس فیصل 87، یونیورسٹی روڈ 74.6، جناح ٹرمینل 69.4، بیس مسرور 82، ناظم آباد 65.7، لانڈھی 59 اور ائیر پورٹ پر 62.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ سہ پہر کے وقت شہر کے کچھ علاقوں میں بارش کا سلسلہ تھمنے کے بعد دھوپ نکل آئی۔

چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز نے ایکسپریس کو بتایا کہ کراچی اور اندرون سندھ میں بارشیں دینے والا مون سون کا سسٹم کمزور پڑ گیا، پیر تک شہر کی فضاؤں پر ایک مضبوط ہوا کا کم دباؤ موجود تھا جبکہ منگل کو بارش کا سسٹم جنوب مشرق میں ہونے کی وجہ سے شہر میں بارشوں کا باعث بن رہا ہے۔

چیف میٹرو لوجسٹ کے مطابق بارش کے سسٹم کی وقت کے ساتھ ساتھ (ڈائنامکس) حرکیات تبدیل ہوتی رہتی ہیں شہر میں بارش دینے والا مون سون کا سسٹم سمندر کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ سسٹم منگل کی رات گئے یا بدھ کی صبح تک سمندر میں ختم ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاوہ بارشوں کا سسٹم اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی تیز بارشوں کا باعث بنا، حیدرآباد میں 200 ملی میٹر، نواب شاہ میں 90 ملی میٹر جبکہ پڈعیدن میں 80 ملی میٹر بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔

سردار سرفرازکا مزید کہنا تھا کہ 10 اگست تک شہر میں کسی ہیوی سسٹم کی توقع نہیں کررہے تاہم اگست کے مہینے میں مون سون کے مزید دو سلسلے اندرون سندھ اور کراچی میں بارشیں دے سکتے ہیں۔

چیف میٹرو لوجسٹ کے مطابق جولائی کا پورا مہینہ خشک گزرا، جولائی کے مہینے میں کراچی میں اوسط بارشیں 60 ملی میٹر ہوتی ہیں مگر موجودہ سلسلے کی وجہ سے پورے سیزن کی بارشیں ایک ہی بار ریکارڈ ہوگئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کو شہر کا زیادہ سے زیادہ پارہ 29.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جبکہ صبح کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 25.5 ڈگری ریکارڈ ہوا۔ دن کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 72 فیصد رہا، سمندر کی جنوب مغربی سمت سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار 36 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ ہوئیں۔

دریں اثنا شہر قائد میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش سے موسم انتہائی خوشگوار رہا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے گزشتہ روز ہی اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے لیے چھٹی کا اعلان کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے بچے شہر میں ہونے والی رم جھم سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے سسٹم کے اثرات کے تحت آج (بدھ) کو شہرمیں ہلکی بارش،بوندا باندی اور پھوار پڑنے کی توقع ہے۔

مزید برآں سندھ حکومت اور بدلیاتی انتظامیہ کی نااہلی نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو زحمت بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر سڑکیں ندی نالوں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں۔ کئی علاقوں میں گندا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

بارش سے بجلی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی، شہر بھر میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا جب کہ کئی علاقوں میں تو پیر کی صبح سے بند ہونے والی بجلی منگل کو بحال کی گئی۔ کے الیکٹرک انتظامیہ صحیح صورت حال بتانے کے بجائے روایتی ٹال مٹول اور حیلے بہانے کرتی رہی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی اور گرد و نواح میں مون سون بارشوں کا سلسلہ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک برقرار رہتا ہے، اس دوران مون سون کے کئی دیگر سلسلے شہر میں داخل ہونے کی توقع ہے۔

کرنٹ لگے سے مزید 10 ہلاک، تعداد 21 ہوگئی

دوسرے روز بھی بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے 10 افراد جاں بحق ہوگئے، دو روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی جب کہ گھروں کی چھت گرنے کے واقعات میں شیر خوار بچہ جاں بحق اور 3 بہنیں، بھائی، میاں بیوی زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک ایل میں واقع ایسٹرن کرکٹ گراؤنڈ کے قریب سائیکل پر سوار 2 نوعمر لڑکوں بجلی کے پول سے کرنٹ لگ گیا۔ عینی شاہدین نے ایکسپریس کو بتایا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے 12 سالہ عابد ولد خرم اور 13 سالہ احمد عمر ولد امجد خان پڑوسی اور دونوں ایک ہی سائیکل پر سوار تھے جسے چلاتے ہوئے وہ جیسے ہی بجلی کے پول کے قریب سے گزرے تو انھیں کرنٹ لگ گیا اور دونوں پول کے ساتھ ہی گرگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ تیموریہ پولیس اور ایدھی کے رضا کار تو فوراً ہی موقع پر پہنچ گئے تاہم کے الیکٹرک کو کئی بار فون کر کے بجلی منقطع کرنے کا کہا لیکن آدھے گھنٹے تک کوئی شنوائی نہیں اور دونوں معصوم بچوں کی لاشیں موقع پر ہی پڑی رہیں، بعدازاں بجلی بند ہونے کے بعد دونوں دوستوں کی لاشوں کا اٹھا کر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔

دونوں متوفین قریب ہی بنگلوں کے رہائشی تھے اور جب ان کی میتیں گھروں کو پہنچیں تو کہرام مچ گیا خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں جبکہ موقع پر موجود ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ دو نوعمر پڑوسی دوستوں کی المناک موت پر پورے علاقے میں سوگ کی سی فضا پھیل گئی اور اہل محلہ کی بڑی تعداد ان کے گھروں پر موجود تھی اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے جبکہ موقع پر موجود افراد کی جانب سے کے الیکٹرک کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈاکس کے علاقے نوری قادری فیکٹری کے قریب کام کے دوران کرنٹ لگنے سے 25 سالہ شہباز جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ایدھی کے رضا کاروں نے سول اسپتال پہنچائی۔

گلشن اقبال کے علاقے بلاک 13 ڈی 2 جمالی گوٹھ میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت 22 سالہ کامران کے نام سے ہوئی ہے، واقعہ بجلی کے پول میں آنے والے کرنٹ کے باعث پیش آیا تھا۔

سائٹ سپر ہائی وے صنتعی ایریا گلشن معمار خادم سولنگی گوٹھ میں مکان کی چھت گرنے سے 6 ماہ کا اسد ولد حسین علی جاں بحق ہوگیا جبکہ 3 بہنیں 11 سالہ مہک علی ، 13 سالہ عظمیٰ علی ، 7 سالہ زہرہ علی اور بھائی 4 سالہ فہد ولد حسین علی زخمی ہوگیا جنھیں ایدھی کے رضا کاروں نے فوری طبی امداد کے لیے قریب ہی واقعے نجی اسپتال پہنچایا۔

کھارادر کے علاقے جوڑیا بازار برتن والی گلی میں گھر کی چھت گرنے سے 35 سالہ عمیر اور اس کی اہلیہ 28 سالہ مہک زخمی ہوگئی جنھیں فوری طبی امداد کے لیے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال لے جایا گیا۔

بلدیہ اتحاد ٹاؤن کے علاقے خیبر چوک کے قریب گھر میں کام کرنے کے دوران خاتون کو کرنٹ لگ گیا۔ متوفیہ کی شناخت 35 سالہ اقبال بیگم زوجہ سید اکبر کے نام سے ہوئی جس کی لاش ورثا بغیر پولیس کارروائی کے اپنے ہمراہ لے گئے۔

کلفٹن کے علاقے امیر خسرو پارک کے قریب کرنٹ لگنے سے نوجوان ثاقب جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی عمر 22 سال کے قریب ہے جب کہ اس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

شہر کے تمام کاروباری مراکز بند رہے

کراچی میں مون سون کی پہلی بارش کے دوسرے روز کراچی کے ہول سیل بازاروں کی 70 فیصد دکانیں بارش کے پانی اور کیچڑ کی وجہ سے کھل نہ سکیں۔ ان میں آرام باغ فرنیچر مارکیٹ، لائٹ ہائوس، بولٹن مارکیٹ، برتن بازار، کپڑا مارکیٹ اور میڈیسن مارکیٹ سرفہرست ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ بارش کا پانی جمع ہونے اور کیچڑ کے سبب دکانیں کیسے کھول سکتے تھے؟ جوڑیا بازار اور اندرونی مارکیٹیں تو انتہائی گندگی کا منظر پیش کررہی ہیں جب کہ کپڑا مارکیٹ اور پلاسٹک مارکیٹ کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش وزیر مینشن بھی پیر سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے، وزیر مینشن کے اطراف کی سڑکیں سوئمنگ پول کا منظر پیش کررہی ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہر بارش میں کھارادر اور میٹھادر سمیت پورا اولڈ سٹی ایریا اسی طرح کا منظر پیش کرتا ہے، بارش کے بعد گٹر ابلنے لگنے ہیں جن کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں مگر یہاں نکاسی آب کا نظام کبھی بہتر نہیں کیا گیا۔