بھارتی پارلیمنٹ نے بیک وقت 3 طلاقوں پر پابندی کا متنازع بل منظوری کرلیا

نئی دہلی: بھارتی راجیہ سبھا (ایوان بالا) نے بیک وقت 3 طلاقوں پر پابندی کا متنازع بل منظور کرلیا۔

بیک وقت تین طلاقوں کے متنازع بل پر 2017 سے بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان تنازع جاری تھا تاہم گزشتہ دنوں لوک سبھا سے منظوری کے بعد اسے راجیہ سبھا سے بھی بل پاس کرالیا گیا ہے۔

اس سے قبل یہ متنازع بل راجیہ سبھا میں 2017 میں بھی پیش کیا گیا تھا تاہم چند ارکان کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی جس کے باعث یہ بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔

بھارتی لوک سبھا میں تین طلاقوں کے خلاف بل منظور

بھارتیہ جنتا پارٹی کی راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی بل کے حق میں 99 اور مخالفت میں 84 ووٹ آئے جبکہ کئی جماعتوں نے ووٹنگ کے دوران بل کی مخالفت میں ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد اب یہ بل صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے گا اور صدر کے دستخط کے بعد یہ بل قانون کا درجہ حاصل کرلے گا جس کے تحت ایک ساتھ تین طلاقیں دینے پر 3 سال قید کی سزا ہوگی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی بیک وقت تین طلاقوں کو قابل سزا قرار دینےکی تائید

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا سے بل کی منظوری پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلمان خواتین کو ان کا حق دینے پر خوش ہیں، یہ بل خواتین کی خودمختاری کی جانب بڑا قدم ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بل کی منظوری کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مسلمان خواتین کے خلاف ہے جو خواتین کی وقعت کم کردے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون ایک خاتون کو ایسے شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور کرے گا جو اسے زبانی و جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی 2017 میں ایک ساتھ تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔