سینیٹ میں تبدیلی کی تحریکیں ناکام: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین عہدوں پر برقرار

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو تبدیل کرنے کی اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی تبدیلی کی حکومتی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر رائے شماری ہوئی۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔

پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کیا کہ آئین کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 ووٹ پڑے جس کی وجہ سے یہ قرارداد متعلقہ ایک چوتھائی ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے مسترد کی جاتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے جب کہ 5 ووٹ مسترد ہوئے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور حکومتی اراکین کی جانب سے ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگائے گئے۔

سلیم مانڈوی والا کیخلاف تحریک ناکام

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک ناکام ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جوناکام ہوگئی۔

سلیم مانڈوی والا کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 32 ووٹ آئے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کے عمل کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

تحریک عدم اعتماد کی کارروائی

اس سے قبل سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کی تصدیق کے لیے ووٹنگ کرائی گئی اور 64 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر راجا ظفر الحق کی قرارداد کی حمایت کی۔

اراکین کی جانب سے قراداد کی حمایت کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے اراکین کو تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور حکومت کی جانب سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے۔

سینیٹر حافظ عبدالکریم نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پہلا ووٹ کاسٹ کیا اور 104 سینیٹرز میں سے 100 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے۔

جماعت اسلامی کے دو اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جب کہ ن لیگ کے چوہدری تنویر نے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور اسحاق ڈار نے تاحال سینیٹ کا حلف ہی نہیں اٹھایا ہے۔

حاصل بزنجو کا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو مستعفی ہونے کا مشورہ

حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے نمبرز گیم کی جنگ سے قبل سیاسی گرما گرمی عروج پر رہی اور دونوں جانب سے عددی اکثریت کا دعویٰ کیا جاتا رہا۔

اس سیاسی گرما گرمی میں دونوں جانب سے عددی اکثریت ظاہر کرنے کے لیے سینیٹ ارکان کی میٹنگز، کارنر میٹنگز، ناشتے، ظہرانے اور عشائیے رکھے گئے۔

اپوزیشن نے صادق سنجرانی کی جگہ میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن
ایوان کی پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو اپوزیشن بینچوں پر 67 ارکان براجمان ہیں تاہم جماعت اسلامی کے 2 ارکان ہیں جنہوں نے ووٹنگ میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد، حکومت فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

اس طرح اپوزیشن کے پاس 103 کے ایوان میں سے 65 ووٹ ہیں جن میں سے مسلم لیگ (ن) کے 30، پیپلز پارٹی کے 21، نیشنل پارٹی کے 5، پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے 4، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 4 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر ہے۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر ملک سے باہر ہیں جس کے بعد اپوزیشن کو توقع ہے کہ ن لیگ کے 64 ارکان چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب حکومتی بینچز پر 36 سینیٹرز موجود ہیں جن میں سے پاکستان تحریک انصاف کے 14، سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے 8، سابقہ فاٹا کے 7، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 5، مسلم لیگ فنکشنل اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا ایک ایک سینیٹر ہے۔

صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے کیلئے اپوزیشن کو 53 ووٹ درکار ہیں جبکہ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کیلئے بھی حکومت کو 53 ووٹوں کی ضرورت ہے۔