‘دو طرفہ معاملہ قرار دینے والا نئی دلی دو طرفہ نشست کیلئے بھی تیار نہیں’

اسلام آباد:  شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا بھارت کو سمجھائے اور اثررسوخ استعمال کرے، دو طرفہ معاملہ قرار دینے والا نئی دلی دو طرفہ نشست کے لیے بھی تیار نہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا وزیراعظم نے منتخب ہونے کے بعد پیغام دیا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو قدم بڑھائیں گے، مسئلہ تیزی سے بگڑ رہا ہے، بھارت آئے بیٹھے اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرے، ہمارا کل بھی امن کا پیغام تھا اور آج بھی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت نے صدر ٹرمپ کی گفتگو پر ہی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں، بھارت مذاکرات کے لیے آسانی سے نہیں مانے گا، ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا اس وقت ہمارا فوکس افغانستان پر ہے، ہمارا افغان امن کا عمل آگے بڑھ چکا ہے، بھارت افغانستان امن عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو اس سے خطے کا امن متاثر ہوگا، معاملات بگڑتے جا رہے ہیں، آج اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں، بھارت مسئلہ کشمیر پر دو طرفہ نشست کے لیے بھی تیار نہیں، بھارت کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے۔