5 دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر پراجلاس بلانا سفارتی فتح ہے،فردوس عاشق

اسلام آباد / پشاور: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ 5 دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر پراجلاس بلانا ہماری سفارتی فتح ہے۔

پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہندستان نے سیکولر ریاست ہونے کا دعوی کیا تھا، بھارت میں بسنے والی اقلیتیں آج شرمندہ ہیں، مودی سرکار نے ثابت کیا اقلیتوں کیلئے ان کے ملک میں کوئی جگہ نہیں، مودی نے خطے میں تھانیدار بننے کے عزائم کی نشاندہی کی ہے، مودی نے مقبوضہ کشمیر میں کربلا کی یاد تازہ کر دی ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہرگھر کے باہر ہندو فوجی کھڑا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ قائد اعظم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا، پاکستان بنانے کا مقصد سامراجی اور استحصالی نظام کا خاتمہ تھا، وزیر اعظم عمران خان قائداعظم کے سپاہی ہیں، انہوں نے ثابت کر دیا کہ کشمیر کی آزادی تک ہماری خوشیاں ادھوری ہیں اور 14 اگست کو اپنی آزادی کشمیریوں کی آزادی سے جوڑ دی، وزیراعظم نے کنٹرول لائن پر کھڑے ہو کر کہا کہ مودی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا تو ان کا مذاق اڑایا گیا، 5 دہائیوں بعد کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، وزیراعظم مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کو جھنجھوڑا ہے، روس نے پہلی بار ہندستان کے بجائے ایک تحریک کی حمایت کی ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس بھارت کے اس دعوے پر کاری ضرب ہے کہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ 5 دہائیوں بعد سلامتی کونسل کا تنازعہ کشمیر پر اجلاس بلانا ہماری سفارتی فتح ہے۔ روس نے بھی پاکستان کے مطالبے کی تائید کی۔ مہذب دنیا مودی کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کا نوٹس لے رہی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہٹلر نے ایک نسل کو جس طرح اپنے ظلم اور بربریت کی بھینٹ چڑھایا، خاکم بدہن مودی اسی طرح کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے۔ مودی اپنے سیاہ اقدام سے ان عزائم کی تکمیل چاہتا ہے جس کا آغاز اس نے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے کیا۔ پاکستان وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہر فورم پر مظلوم کشمیریوں کی وکالت کرے گا تاکہ بھارت کو مجبور کیا جاسکے کہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہوسکے۔