شمالی کوریا کا جنوبی کوریا کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے سے انکار

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے امن مذاکرات مزید جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے صدر مون جئی ان کو دنیا کا بدترین آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے ہم جنوبی کوریا کے ساتھ مزید مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے۔

جنوبی کورین صدر نے جاپان سے آزادی حاصل کرنے سے متعلق تقریب میں کہا تھا کہ 2045 تک جزیرہ نما کوریا ایک ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر کوریا دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔

صدر مون جئی ان کا مزید کہنا تھا کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مقصد حاصل کرنا سب سے مشکل مرحلہ تھا کیونکہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا کوریا ہمارا منتظر ہے جو مشرقی ایشیا اور دنیا میں خوشحال اور پر امن لائے گا۔

شمالی کوریا کا ردعمل

شمالی کوریا کا ایک ہفتے میں پانچویں مرتبہ میزائل تجربہ

شمالی کوریا کی جانب سے جاری ایک بیان میں مذاکرات کے معنی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس وقت بھی جنوبی کوریا نے مشترکہ فوجی مشقیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور پُرامن معیشت اور پُرامن حکومت کی بات کرتا ہے، ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اعلامیے میں جنوبی کوریا کے صدر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ جب وہ جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو اسی لمحے وہ جنگ کا تذکرہ بھی چھیڑتے ہیں، ان کا منصوبہ ہے کہ ہماری آرمی کے بڑے حصے کو 90 روز میں ختم کر دیا جائے، وہ واقعی ایک بے شرم انسان ہیں۔

شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کی جاری مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشقیں ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر مون جئی ان کے ساتھ طے پائے تھے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حال ہی میں لکھے گئے خط میں مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جنوبی کوریا کے ساتھ بات کرنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔

جنوبی کوریا کی آرمی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جمعے کی صبح مشرقی ساحل پر دو میزائل فائر کرنے کا تجربہ بھی کیا گیا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا کہنا ہے شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل فضا میں 230 کلو میٹر تک گئے اور 30 کلومیٹر تک فاصلہ طے کیا۔

یہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ماہ کے دوران چھٹا میزائل تجربہ ہے۔

متعلقہ خبریں